الیکٹرانک میڈیا اور ہم


ایک زمانے تھا جب الیکٹرانک میڈیا کسی بھی قسم کے علم کے حصول کا سب سے مفید زریعہ سمجھا جاتا تھا جہاں مختلف مکاتب فکر کے عالم و فاضل لوگ ہمارے اہداف کو ممکن بناتے تھے، چاہے وہ دینی علم ہو، سائنس سے متعلق ہو ادب ہو معلومات ہو یا تاریخ......اب یہ ساری باتیں صرف سوشل میڈیا پہ لکھی یا پڑھی جاتی ہیں. 
 ہمارے ملک پاکستان میں ایک دور تھا جب الیکٹرانک میڈیا پر صرف پی ٹی وی (P.T.V) کی حکومت تھی اوراس وقت یا تو امریکن سنڈی پر بات ہوتی تھی یا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروگرام میں سوئی میں دھاگہ ڈالنا سکھایا جاتا تھا.
اسی پی ٹی وی نے ہم کو اپنے پروگرام (بولتے ہاتھ) میں سکھایا تھا کہ جو لوگ
بول نہیں سکتے وہ کس طرح باتیں کرتے ہیں.  
آج ہمارے لیے یہ ساری باتیں دقیانوسی ہیں مگر حقیقت کا یہ عالم ہے کہ آج بھی ہماری کتنی ہی بہنوں کو سوئی میں دھاگہ ڈالنا نہیں آتا. 
آج کل بھی الیکٹرانک میڈیا کا بہت زور ہے اسی میڈیا نے ہمارے ذہنوں میں سیاسی شعوراتنا زیادہ بھر دیا ہے کہ ایک عام آدمی اپنے آپ کو پورا ملک چلانے کا اہل سمجھنے لگا ہے مگراسی الیکٹرانک میڈیا کو ٢٠ کروڑ آبادی والے ملک میں کوئی ایک ڈاکٹر، ایک ادیب، ایک سائنٹسٹ، ایک اسکالر، اورایک قابل استاد تک نہیں مل سکا جس سے ایک عام آدمی استفادہ حاصل کر سکے. بطور قوم ہم نے اپنے لیے صرف فن کو اور میڈیا نے صرف سیاست کو اپنا محور بنا رکھا ہے.    
بدلتے حالات کے ساتھ ہم نے بھی اپنے آپ کو نئی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا ہے.
اب کسی بھی میڈیا چینل پر اذان کی آواز نہیں آتی، اب بچے ٢٤ گھنٹے کارٹون تو دیکھ سکتے ہیں مگر١٠ منٹ کا اقرا پروگرام دیکھ کر قرآن میں استعمال ہونے والی زیر زبر پیش سے روشناس نہیں ہو سکتے.    
آج ہم اپنے کسی بچے کو اگر اقرا کے بارے میں بتائیں گے تو سب سے  پہلے     پی ٹی وی کے بارے میں بتانا پڑے گا. خیر یہ سب تو اس دور کی باتیں ہیں جب لوگ مٹی کے ہوا کرتے تھے، 
اب ہم نے انتھک محنت کے بعد ترقی کی نئی راہیں تلاش کر لی ہیں اب ہم کو معلوم ہو گیا ہے کہ جب تک ڈانس نہیں کرو کوئی چیز نہیں بکتی چاہے وہ چاۓ کی پتی ہو، دودھ ہو، بسکٹ ہو، موبائل ہو یا کوکنگ آئل.      
ترقی کی اس منزل تک پونچھنے کے لیے بطور قوم ہم نی بہت قربانی دی ہے،
اپنی معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کی گٹھری کو بلاخر ہم اپنے سر سے اتارنے میں کامیاب ہو ہی گۓ. اب ہم نئی دنیا کے نۓ تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں جبھی تو ہر محرم اور ہر رمضان میں ہم نت نۓ گلوکاروں اور اداکاروں سے دین کا علم سیکھتے ہیں، ہر رات کو ٹاک شو میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی عزت کا جنازہ نکالتے ہیں، صبح اکھٹے ہو کر موج مستی کرتے ہیں شام کو محافل سجاتے ہیں اور رات سونے سے پہلے سوشل میڈیا پر یہ سٹیٹس لگا کر بحثیت قوم اپنی ذمےداری پوری کر دیتے ہیں.
 " مملکت اسلامیہ کا واحد حل نفاذ شریعت میں ہے"      
بات یہاں کسی پر تنقید یا تعریف کی نہیں.....تنقید براے اصلاح ہونی چائیے، 
اصلاح سے لوگ اور لوگوں سے معاشرہ درست سمت گامزن ہوتا ہے. 


   

تبصرے