اچھی تربیت



تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت کسی بھی معاشرے کا اہم پہلواُجاگر
کرتی ہے.
کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دن میں اپنی گلی کے بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں مصروف تھا کہ اچانک عصر کی نماز کا وقت شروع ہو گیا تو میں بچوں سے نماز کا بول کرجانے لگا تو ایک سات سال کے بچے نے مجھے ٹوکا کہ آپ نے چست لباس 
(پینٹ شرٹ) پہنا ہوا ہے تو پہلے تو میں نے غور کیا پھر اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اس کو یقین دلانا چاہا کہ شلوار قمیض میں نماز فرض تو نہیں ہے تواس بچے نے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ جواب دیا.... واجب تو ہے.  
میں اس بچے کی بات سن کراس کی تربیت اور دینی آگہی کے خیال سے خوش بھی ہوا اور حیران بھی کیونکہ فرض اور واجب کا فرق تو عام طور پر بڑوں کو بھی نہیں معلوم ہوتا. ہاں اگر معلوم ہوتا ہے تو صرف اتنا کہ....  
میٹھا کھانا سنّت ہے....
نماز فرض ہے....
اورقربانی واجب....  

آگہی چاہے دینی ہو یا دنیاوی ایک زمانہ تھا جب صرف کتاب ہی حصولِ علم کا بہترین ذریعہ سمجھی جاتی تھی. 
آجکل کے جدید دور نے ہمارے معاشرے کو جہاں انتہائی ترقی یافتہ بنایا ہے وہیں کتاب کی جگہ الیکٹرونک ڈیوائس نے لے لی ہے.
آج ہم اپنے بچوں کے معصومانہ ذھن کو موبائل اور ٹیبلٹ سے کم عمری میں ہی پختہ کر رہے ہیں.ایک زمانے تک آدھا یورپ پوکیموں (Pokemon) ڈھونڈتا رہا اور آدھا ایشیا ڈوریموں (Doraemon) کے پیچھے بھاگتا رہا. باقی رہ گۓ انگریز اور یہودی تو وہ ہماری جہالت اور بیوقوفی پر ہنستے ہوے صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں.
ایک گھر ہی ہر بچے کے لیے پہلی درسگاہ سمجھا جاتا ہے جہاں ہر بچہ اپنی ابتدائی عمر میں اپنے والدین سے ہی ہر اچھی بُری بات سیکھتا اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیتا ہے. عام طور پر ہم لوگ اپنے بچوں کو مہنگے اسکول میں داخل کروا کر سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی ذ مےداری بھی اساتذہ نے ادا کرنی ہے.   

ہمارے اس بے حس معاشرے میں دنیاوی کتاب پڑھنے والے کو پڑھاکو اور دینی کتاب (قرآن مجید) پڑھنے یا اس کی تعلیم دینے والے کو حرفِ عام میں مُلّا کہا جاتا ہے. کتاب سے آگہی رکھنے والے کے بارے میں ہم اپنا ایسا ذھن بناتے ہیں کہ اس شخص کو انسانوں کی فہرست سے ہی خارج کر دیتے ہیں. 

"بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی" 

اصل تربیت کی ضرورت تو ہم والدین کو ہے، اگر ہم اپنے اخلاق اور
اپنے گھر کے ماحول کو سہی رکھیں، بچوں کے ساتھ کھیل میں خود کو شامل کریں،

ان کی ذہنی نشونما کتاب سے کریں ان کا اعتماد بھال کرنے کے لیے ان کو اپنے ساتھ  ہر اچھی بات اور اچھی خوشی میں شامل کریں، تب ہی ہم اس معاشرے کو ایک اچھا اُستاد ایک اچھا طبیب اور ایک اچھا عالم دے سکتے ہیں.   






     

تبصرے