گیتا اور رمضان
گیتا ساتھ خریت کے آخر کار چودہ سال کے بعد اپنے دیش بھارت پہونچ ہی
گئی. اورایدھی صاحب کی اعلی ظرفی کا انڈیا جیسا کم ظرف ملک بھی تعریف
کرے بنا نہیں رہ سکا، چلو قصّہ تمام ہوا مگر پکچر ابھی باقی ہے میرے
دوستوں، ذرا سوچیے ..... کیا کسی کو یاد ہے کہ پندرہ سال کا پاکستانی
لڑکا (رمضان) گزشتہ چار سال سے بھارت میں پھنسا ہوا ہے، کتنے افسوس
کا مقام ہے ہمارے سیاسسی جادوگروں اور میڈیا کے لیے کہ کسی نے اس کا
نام تک لینا گوارا نہیں کیا، ہمارے حکمرانوں میں کیا اتنی بھی جرّت اور
غیرت نہیں کہ وہ اپنے سپوت کو بھارت سے مانگ سکیں. لعنت ہے ایسی
تجارت اور جمہوریت پر....مسلہ یہ ہے کہ ہم دن بھر ٹی وی پر دن بھر
انڈین گانے اور اشتہار تو دیکھ سکتے ہیں مگر اپنے ملک کی عام عوام کو
سہی آگاہی نہیں دے سکتے، یقینن آپ اور میں یہ جانتے ہیں کہ ایک عام
آدمی کچھ بھی نہیں کر سکتا، مگر کم از کم لوگوں کو یہ معلوم تو چلے
کہ کوئی رمضان نام کا پاکستانی لڑکا بھی ہے جو بھارت میں گزشتہ چار
سال سے بھارت کی قید میں قید ناحق کاٹ رہا ہے.
کچھ بھی ہو اس سارے قصور میں ہم عوام ، میڈیا اور حکمران برابر کے
شریک ہیں.
الله ہمارے حالت پر مزید رحم کرے.... امین
تبصرے