یقین کامل
رات کے بارہ بج رہے تھے اور میں سڑک کے کنارے کھڑا ٹیکسی کا
انتظار کر رہا تھا، آج گھر جاتے ہی سو جاؤنگا ابھی اسی سوچ میں گم تھا کہ اچانک
ایک بلّی میرے پیروں پہ آ کہ لوٹنے لگی اور کسی الجبرا کے سوال کی طرح میرا منہ
تکنے لگی، میں سمجھ گیا کہ یہ بھوکی ہے میں اس بات کو قدرے نظر انداز کر دیتا کہ
اچانک مجھے یاد آیا کہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھا
رہا تھا اور نہ جانے کتنا ہی کھانا ہم دوستوں نے ایسے ہی ضائع کر دیا تھا جو کہ
یقینناً ویٹر نے کچرے کی نظر کر دیا ہو گا.
بلّی کی معصومیت دیکھ کر مجھے اپنے آپ سے کراہیت محسوس ہونے لگی
مگر پھر یہ سوچ کرکہ الله کبھی اپنی مخلوق کو بھوکا نہیں سُلاتا....ٹیکسی
میں بیٹھ کر گھر کی رہ لی.
ویسے تو کہتے ہیں کہ بھرا پیٹ شیطان کا ہوتا ہے مگر آج بلّی کی
ایک حسرت بھری نگاہ نے میرا ایمان تازہ کر دیا ور مجھے حضرت موسیٰ علیه سلام کا وہ
قصّہ یاد آ گیا کہ جب حضرت موسیٰ علیه سلام الله تعالیٰ سے ہمکلام ہونے
کے لیے کوہ طور پہ تشریف لے گے تو آپ نے الله تعالیٰ سے پوچھا کہ یاالله تو
اپنی مخلوق کو رزق کیسے دیتا ہے تو الله تعالیٰ نے فرمایا...اے موسیٰ تم اپنی
لاٹھی سامنے پتھر پر مارو، جب حضرت موسیٰ علیه سلام نے اپنی لاٹھی پتھر پر
ماری تو پتھر دو ٹکرے ہو گیا اور آپ نے دیکھا کہ پتھرکے اندر ایک کیڑا
بیٹھا ہرا پتّہ کھا رہا
تھا.
الله تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو ایسے ہم اپنی مخلوق کو رزق
دیتے ہیں۔
سبحان الله
آج کافی دنوں کے بعد مجھے سکون کی نیند آ رہی تھی کیونکہ
مجھے کامل یقین ہو گیا تھا کہ وہ بلّی بھی اپنا پیٹ بھرکے سکون کی نیند سو
چکی ہو گی.
الله تعالیٰ ہم سب کو اپنے قرب و جوار میں بسنے والی الله کی ہر
مخلوق کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے....
آمین.
تبصرے