شاہد آفریدی آج اور کل

  

چلوآج پاکستان کرکٹ ٹیم نے کسی ٹورنامنٹ سے جلد ہی باہر ہونے کا مزہ پھر سے چکھ لیا، آج پاکستان ٹیم کو بنگلہ دیش نے ایشیا کپ سے باہر نکال دیا، سوال یہاں پر ہار جیت کا نہیں، بات جو دل میں آ کے چبھ گئی  وہ آج میچ کے بعد جب   ٹی وی پر لوگوں کے تاثرات دیکھے خاص کر شاہد آفریدی کے بارے میں، کوئی که رہا تھا کہ بھائی اب تو معاف کر دو، کوئی که رہا تھا کے لالہ اب تو ٹیم کا پیچھا چھوڑ دو، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم کو صرف اپنا مزہ اور تفریح عزیز ہے، آج میں یہ بات اس وقت  کر رہا ہوں جب پورا پاکستان شاہد آفریدی پر تنقید کر رہا ہے،،،، اور کیوں نہ کہوں آفریدی کا ریکارڈ تو دیکھیں...... 

T20 Records
 93 Match // 93 Wickets

One Day Records
398 Match // 395 Wickets // 351 Sixes // 8000 Runs // 127 Catches

صرف دو one day میچ  اور کھیل  کر آفریدی ایک ایسا ریکارڈ بنا سکتا تھا جو شاید کسی کے پاسس نہ ہوتا اور اس کا فائدہ صرف آفریدی کو ہی نہیں ہوتا بلکہ   اس سے پاکستان کا نام مزید روشن ہوتا. اور وہ ریکارڈ ہوتا 400 میچ میں 400 وکٹ مگر ہمارے ملک میں ہر وہ چیز جو ملک کا نام روشن کرے وہ سیاست کی نظر ہو جاتی ہے. 
یہ وہی آفریدی ہے جس نے 2014 کے ایشیا کپ کے فائنل میں اسی بنگلہ دیش کے 
خلاف صرف 25 بالز میں 52 رنز بناے تھے، پھر یہ وہی آفریدی تھا جس نے
ایشیا کپ میں ہی انڈیا کے خلاف صرف 18 بالز میں 34 رنز بنا کر پاکستان کو تاریخی میچ جتوایا تھا. اس وقت تو ہر کوئی آفریدی کے نعرے لگا رہا تھا اور اب الٹی ہی گنگا بہ رہی ہے...... لوگوں کی تنقید سے ایسا لگ رہا تھا کہ میچ جیتنے صرف ہماری ٹیم آئ تھی باقی بنگلہ دیش والے تو صرف گھومنے آے تھے، ہم  کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہر میچ کا فیصلہ ہار جیت پر ہی ہوتا ہے ایک ٹیم کو   جیت ور دوسرے کو ہار ملتی ہے.  ہم لوگ ہر بار ان لوگوں کو ہی  برا بھلا کہنے کے لیے نکل پڑتے ہیں جنھوں نے دنیا میں پاکستان کا کسی نہ کسی صورت میں نام روشن ہی  ہم عام لوگ جو صرف تنقید کرنا جانتے ہیں ہم نے کیا دیا ہے پاکستان کو ذرا سوچیے.    

بات یہ ہے کہ کسی پر تنقید کرنا تو بہت آسان ہے مگر آخر ہم ان لوگوں پر کب تنقید کرینگے جو ان کھلاڑیوں کو منتخب کرتے ہیں جب تک کرکٹ بورڈ میں ستر سال کے بوڑھے چیئرمین بن کر آتے رہینگے  پاکستان کرکٹ ٹیم کا یہی حال رہے گا.
مزے کی بات تو یہ ہے کہ تنقید کرنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جن کا خود سب سے زیادہ قصور ہے، جو لاکھوں ڈالر تنخوا لے کر صاف چھوٹ جاتے ہیں میرا اشارہ کوچ قار یونس کی طرف ہے.      

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے سن 2000 میں پہلے ٹیسٹ کھیلا تھا تو اگرآج سولہ سال کے بعد بھی بنگلہ دیش ٹیم کسی بڑے ٹورنامنٹ کا فائنل نہ جیت پاے تو ان کو کرکٹ کو چھوڑ کر صرف مچھلی پکڑنی چائیے.
ہم اپنے سے بعد آنے والے کو ہمیشہ بچہ ہی سمجھتے ہیں یہی حال اور خیال ہمارا سری لنکا کے بارے میں بھی تھا جو کہ سری لنکا نے 1996 کا ورلڈ کپ جیت    
کر غلط ثابت کر دیا. 

بات اگر پاکستان کی ہار کی کی جاے تو ہم نے کسی اور کھیل میں کون سے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں جو کرکٹ کی ہار کا ہم کو اتنا زیادہ دکھ ہو رہا ہے.  

ہم آخر کب تک کرکٹ میں بنگلہ دیش کو بچہ اور انڈیا کو دشمن سمجھ کر کھیلتے رہینگے... ہم کو اگر اپنے کھیل میں جذبہ اور نکھار لانا ہے تو ہم کو اپنے سوچنے کا انداز بدلنا ہو گا، تبھی ہم کامیابی کی سیڑھی چڑھ سکتے ہیں. 

یہی سیڑھی چڑھ کے ہم کو ابھی اور اوپر جانا ہے. 


بقول علامہ اقبال  


"ستاروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں 

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں" 







        

تبصرے