گھر گھر کی کہانی



ایک عورت اپنی پڑوسن سے: دیکھو میرا داماد کتنا اچھا ہے میری بیٹی کا کتنا خیال رکھتا ہے وہ اپنی ساری تنخوا لا کر میری بیٹی کے ہاتھ میں رکھتا ہے، اورایک میرا بیٹا ہے ہر وقت اپنی بیوی کا چمچہ بنا رہتا ہے اپنی تنخوا تک اپنی بیوی کو دے دیتا ہے اسے تو اپنی ماں کا ذرا سا بھی خیال نہیں ہے. 
 ایک بیوی اپنے شوہر سے: آپ کو تو بس اپنی امی ہی نظر آتی ہیں میرا تو آپ کو بلکل بھی خیال نہیں ہے، دیکھیے گا میں اپنے بیٹے کو آپ جیسا بلکل نہیں بناؤں گی بلکہ اس کو سکھاؤں گی کہ وہ میرا یعنی اپنی ماں کا خیال رکھے.  

دوستوں ان دونوں عورتوں کی باتیں کسی کو بھی ہنسانے کے لے کافی ہیں.

یہی ہے ہمارے ملک پاکستان کے ہر دوسرے گھر کی پہلی کہانی جہاں ایک مرد دو عورتوں کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرتے کرتے بے انصافی کی نظر ہو جاتا ہے، جہاں ایک ماں یہ نہیں سوچتی کہ اس نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت پر خرچ کیا ہے اور یہ سب صرف اس کے شوہر کی محبت اور آپس میں رکھے جانے والے ایک دوسرے کے خیال کی وجہہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے،،،، اور اب اگر اس کا اپنا بیٹا اپنی بیوی سے محبت کا 
تقاضا نبھاہ کر اس سلسلے کو آگے بڑھا رہا ہے تو یہاں آ کر ماں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس کا اپنا بیٹا انصاف نہیں کر رہا.
ایک بیوی کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس کا شوہر ماں کو زیادہ وقت دے کر اس کو وقت نہیں دے رہا.   
 یہی وہ جگہہ ہے جہاں دو عورتیں مل کر ایک مرد کو آپس میں بانٹ تو نہیں سکتیں مگر توڑ ضرور دیتی ہیں.
مرد کو ایک ایسے ٹی وی ریموٹ کی طرح بنا دیا جاتا ہے جس کے سیل ویک ہونے کی صورت میں لوگ ریموٹ کو زمین پر مار مار کر چلاتے ہیں مگر سیل تبدیل نہیں کرتے یہاں تک کے سیل لیگ ہو جاتے ہیں اور ریموٹ بلکل ہی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے.
یہاں مقصد صرف دو عورتوں کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے بلکہ ضرورت آگاہی کی ہے. ایک ماں جو اپنے بیٹے سے چاہتی ہے اورایک بیوی جو اپنے بیٹے سے چاہتی ہے اگر دونوں کی سوچ اپنے اپنے بیٹوں کے بارے میں ایک ہی ہے تو پھر آپس میں یہ تضاد کیسا، دونوں عورتوں کو اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا ہو گی اور وسعت پیدا کرنا ہو گی ورنہ دو عورتوں کے درمیان میں ایک مرد ہمیشہ آتا رہے گا

دوستوں ضروری نہیں کہ آپ لوگ میری بات سے اتفاق کریں مگر بات یہ ہے کہ جس دن ایک ساس اپنی بہو کو بیٹی کی نظر سے اور ایک بہو اپنی ساس کو ماں کی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو جاۓ گی انصاف کا تقاضا خود بخود پورا ہو جاۓ گا.  



      

تبصرے