ہماری پہچان کے ٧٠ سال




   ہماری پہچان کے ٧٠ سال 

دوستوں بات اگر تھوڑی غیر اہم ہوتی تو میں کبھی بھی قلم نہ اٹھاتا مگر یہاں مسلۂ
ہماری پہچان کا ہے جس سے ہم پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں. 
پچھلے ایک ہفتے سے تمام سوشل میڈیا پر پاکستان کے 70th یوم آزادی کے لوگو کو لے کر بحس و مباحثہ جاری ہے... مگر یہاں تنقید بلکل جائز ہے کیونکہ وفاقی گورنمنٹ نے دنیا میں ہمارا جو امیج ظاہر کیا ہے وہ بلکل نفی میں جاتا ہے، شاید ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان صرف معمولی سوچ کے حامل افراد کی سرزمین ہے، جب کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ہنر مند افراد سے بھرا پڑا ہے، ہر ایک پتھر کے نیچے سے دو فنکار اور ایک قلم کار نکلتا ہے.
بات کو آگے بڑھاتے ہوے.... پچھلے ہفتے 14th جولائی کو اسلام آباد کے آرٹس کونسل میں پاکستان کے 70th یوم آزادی  کے حوالے سے  لوگو کو لے کر تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں 200 آرٹسٹ شریک ہوے اور جیت کا حقدار نیشنل یونیورسٹی سائنس اور ٹیکنالوجی کی طلبہ مس صبا زمان کو ٹہرایا گیا صرف یہی نہیں وزیر اعظم پاکستان نے صبا زمان کے لیے پانچ لاکھ 500,000 کے انعام کا بھی اعلان کیا.... بات بہت سادہ سی ہے. اسی یونیورسٹی کے ہیڈ کا نام اتفاق سے لیفٹیننٹ  جنرل رٹائرڈ  نوید زمان ہے اور حیرت انگیز طور پر وزیراعظم پاکستان اسی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں.   
میں یہاں اس بات سے ضرور متفق ہوں کہ اگر صبا زمان کا یہ لوگو پاکستان کے 7th یوم آزادی پر شایع ہوتا تو ضرور انعام کا مستحق ہوتا مگر اب تو ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی بھی کر لی ہے... پر لگتا ہے کہ ہم آج بھی پچاس سال پیچھے ہی جی رہے ہیں.           
دوستوں میری نظر جب سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کی جانب گی تبھی لکھنے کا خیال آیا... سوچا کے اگر نہ لکھا تو ایک ہنرمند کے ساتھ زیادتی ہو گی.... ہمارے ایک قابل دوست فرحان علی صدیقی نے اپنا  خود کا بنایا ہوا لوگو پاکستان گورنمنٹ کو مفت دینے کا اعلان کیا تو فرحان علی  کی اس پوسٹ  کو دیکھ کر دل میں رشک پیدا ہوا کہ  واقعی آج بھی  ایسے لوگ ہیں جو پاکستان کے امیج کو سب سے آگے لے کر جانا چاہتے ہیں... دوستوں آپ بھی دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اگر صبا زمان پانچ لاکھ کی حقدار بن سکتی ہے تو کیا فرحان علی صدیقی پانچ ہزار likes کا حقدار نہیں ہو سکتا.... 
ایسے موقع پر مجھ کو انٹی گورنمنٹ کا وہ ڈائلوگ یاد آ گیا 
" یہ بک گئی ہے گورنمنٹ" 

                                                      "احمد منہاج" 

                                                        
              صبا زمان                                             فرحان علی صدیقی    



                                                                 



    




تبصرے