حسن بن صباح -- قلعہ الموت
حسن بن صباح -- قلعہ الموت
بارہویں صدی میں جس وقت ایران اور عراق پر منگول کی حکومت تھی اس
زمانے میں ہی ایران میں ایک اسماعیلی گروہ "اسسسسیان" نے بہت ہنگامہ اور
خون ریزی پھیلائی ہوئی تھی، اس گروہ کی بنیاد اسماعیلی فرقے کے
حسن بن صباح نے رکھی تھی، یہ وہی شخص تھا جس نے ایران کے صوبے
جلن میں ایک پہاڑی علاقے میں قلعہ الموت کے نام سے اپنا مرکز بنایا ہوا تھا،
یہ ایک قسم کی جنّت تھی جس میں اگر کوئی داخل ہو گیا تو وہ اپنے دین اپنے
رب اپنے مذہب اور اپنے گھر بار کو بھول کر صرف حسن بن صباح کو ہی
اپنا خدا سمجھتا تھا، لاکھوں فدائیں (خود کش بمبار) صرف اس بات پر اپنی جان
کا نذرانہ پیش کرتے تھے کہ اس عمل کے بدلے میں ان کو حسن بن صباح کی
جنّت ملے گی، حسن اپنے آپ کو شیخ الجبل کہلاتا تھا جس کے انگریزی معنی تھے
(the mountain chief) حسن وہ پہلا شخص تھا جس نے حشیش (بھنگ) کو
اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا، جب بھی کسی سپاہی کو بطور فدائی بھرتی کرنا
ہوتا تھا تو سپاہی کو بھنگ پلا کر اپنی جنّت میں بھیج دیا جاتا تھا جہاں وہ بھنگ
کے نشے میں مست ہو کر وہاں رہنے والی حسین عورتوں (جن جو حور کے طور
پرپیش کیا جاتا تھا) ان سے ملتا ان کے ساتھ باغ کی سیر کرتا اور اعلی قسم کا
میوہ اور کھانا اس کو پیش کیا جاتا تھا، غرض اس کو عیش و عشرت سے
بھرپور زندگی کی ایسی تصویر دکھائی جاتی جو اس کو حسین خوابوں کی دنیا میں
لے جاتی، پھر وہی حسین عورتیں اس سپاہی کو بھنگ ملا شربت پلا کر حسن بن
صباح کے پاس چھوڑ دیتی. بھنگ کے نشے میں مست سپاہی اپنے آپ کو حسن
کے قدموں میں پا کر بہت خوشی محسوس کرتا اور جنّت پانے کی خوشگوار سوچ
اس کو بے چین کیے دیتی، پھر حسن اس سپاہی سے کہتا کہ جنت پانے کے لیے
تم کو اپنی جان دینی پڑے گی وہ سپاہی بخوشی اس کو قبول کر لیتا.
حسن بن صباح کو اپنے جس دشمن کو مارنا مقصود ہوتا تھا بس وہ ایک فدائی کو
حکم دیتا کہ جاؤ میرے دشمن کو ہلاک کر دو.... جنّت تمہارے لیے لکھ دے گئی
ہے اور مرنے کے بعد حوریں تمہارا جنّت میں استقبال کرینگی، یہی وہ فدائی
تھے جن کی وجہہ سے دنیا کے تمام امرا اور سلطان حسن بن صباح سے خوف
کھاتے تھے.
ان فدائیں کو بلی کا گوشت کھلایا جاتا تھا کیونکہ بلی غضب اور غصّے کے وقت
اپنے قابو میں نہیں رہتی اور اپنے دشمن کا بہت بے جگری سے مقابلہ کرتی ہے.
حسن بن صباح نے انتالیس سال تک قلعہ الموت پر حکومت کی، حسن ایک بہت
ہی چالاک عیار اور ہوش مند آدمی تھا اور اس کو یہ سب اپنے باپ سے ورثہ
میں ملا تھا، اس کا باپ علی بن احمد عیاری چالاکی اور مکاری میں اپنے
زمانے کا استاد مانا جاتا تھا، حسن بن صباح نہیں اپنے باپ سے متاثر ہو کر
ہی عیاری و چالاکی کو اپنا ہتیار بنایا، لڑکپن کے دور میں حسن نے اپنے
باپ کے خاص کمرے میں نوخیزوحسین عورتوں کو دیکھا جن جو ورغلا
کر لیا جاتا تھا اور بھنگ ملا شربت پلا کر مست کر دیا جاتا تھا. وہیں حسن
نے بھنگ کو پہلی بار کسی مشروب میں ملا کر پیا تو اس کو ایسا لگا کہ
وہ کسی اور دنیا میں پہونچ گیا ہے جہاں ہر چیز اس کو رنگین نظر آ رہی
ہے، اسی بھنگ کو اس نے بعد میں اپنا خاص ہتیار بنایا اور فدائیں کو
بھنگ پلا کر بطور ہتھیار اپنے دشمن پر استعمال کیا.
اگر یہ کہا جاۓ تو غلط نہ ہو گا کہ فدائی حملوں کی تاریخ حسن بن
صباح کے اسماعیلی فرقے سے بارہویں صدی میں شروع ہوتی ہے جس
کو ہم کسی نہ کسی شکل میں آج تک بھگت رہے ہیں.
تبصرے