کلمہ حق
آج اسکول کے سب دوست صبح ہی
صبح گلی کے نُکڑ پہ جمع تھے کیونکہ آج میٹرک کا نتیجہ آنے والا تھا اور ہم سب دوست اخبار کا انتظار کررہے
تھے، سب کو ایک عجیب سی بے چینی تھی کہ کیا ہونے والا ہے ..... کہ
اچانک ایک باریش حضرت جو کہ قریب ہی سڑک سے اپنی اسکوٹر سے گزر رہے تھے
ہم دوستوں کو دیکھ کر اپنی اسکوٹر واپس موڑ کر ہمارے پاس آ کر کھڑے ہو گۓ، ہم
سمجھ گۓ کہ اب یہ ہم کو نماز کے لیے کہیں گے. ہم سب دوست ان سے جان
چھڑانے کے بہانے سوچنے لگے، تو سلام دعا کے بعد ان حضرت نے یوں اپنی بات شروع
کی ......... بچوں میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لونگا بس ایک بات کرنا چاہتا
ہوں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بزرگ کا گزر کسی قبرستان سے ہوا تو ان کو
قرآن کی تلاوت کی آواز آی، قریب جا کے انھوں نے دیکھا کہ ایک قبر کھلی ہوئی
ہے اور تلاوت کی آواز اس ہی میں سے آ رہی ہے، دیکھا کہ ایک مُردہ قبر کے اندر
بیٹھا قرآن کی تلاوت کر رہا ہے.
ان بزرگ نے تلاوت سن
کر سبحان الله کہا اور آگے بڑھ گۓ، تو اس مُردے نے پیچھے سے آواز دے کر
اُن کو واپس بلایا اور کہا .......
تم پہلے آدمی ہو جس نے میرے تلاوت سنی ہے،
میں یہاں چالیس سال سے قرآن پڑھ رہا ہوں اور اب تک چالیس ہزار قرآن
پڑھ چکا ہوں .... پھر مردے نے ان بزرگ سے کہا کہ تم میرے چالیس ہزار
قرآن لے لو اور مجھے اپنا ایک سبحان الله دے دو،
وہ بزرگ اس مُردے کی بات سن
کر خاموشی سے آگے بڑھ گۓ.
پھر ان باریش حضرت نے اپنی
بات کو مکمّل کرتے ہوے کہا کہ بچوں اس ساری بات کا مفہوم یہ ہے کہ
جو شخص ایک بار دل سے سبحان الله کہتا ہے تو الله تعالیٰ اس کے لیے جنّت میں
ایک درخت لگاتا ہے اور اس درخت کا سایہ اتنا طویل ہوتا ہے کے اگر عربی نسل کا
گھوڑا اس درخت کے نیچے چالیس سال تک لگاتار دوڑتا رہے تو بھی اس کا سایہ
ختم نہ ہو.
مگرساری عبادات اُس وقت تک
قابلِ قبول ہیں جب تک روح اور جسم کا تعلق برقرار ہے،،،،،،
بس اتنا که کر وہ حضرت
اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گۓ اور ہم کو ایک نئی منزل سے روشناس کر گۓ، الله
تعالیٰ انکو صحت اور ہم کو دین پہ استقامت عطا
فرماۓ،
بات بہت پُرانی ہو چکی ہے مگر
آج بھی میرے دل میں بسی ہوئی ہے، جب بھی قبرستان جاتا ہوں تو سبحان الله که
کر الله تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں.
الله تعالیٰ ہم سب کو اپنی
زندگی میں ہی کلمہ حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
آمین.
تبصرے