قبضے کی جنگ


چلو بلدیاتی الیکشن تو مکمّل ہوے، کیا ہوا جو بارہ افراد اپنی جان سے گۓ، جیتنے والی پارٹی کے رہنما گلے میں پھولوں کا ہار ڈالے سینہ پھلا کے گھوم رہے ہیں اور زندہ رہ جانے والے پارٹی کارکن دنیا و مافیا سے بے خبر بھنگڑے ڈال ڈال کے پھر سے فالتو گھوم رہے ہیں، یہ ہی ہمارے ملک پاکستان کا اصل چہرہ ہے جہاں جیتنے والا تو قومی دولت لوٹنے کے لے اسمبلی کی طرف چل پڑتا ہے اور رہ گے عام عوام تو وہ عقل و دانش سے بے نیاز اخلاقی گراوٹ کی کیچڑ میں اتر کر ایک دوسرے کا خون کے پیاسے بنے ہے ہیں، ہم یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ایک دن ہماری اپنی موت پر بھی یہی پارٹی رہنما پھر سے گلے میں ہار ڈال کے گھوم رہے ہونگے.
یہ اقتدار اور پیسے کی نہیں صرف قبضے کی جنگ ہے، کیونکہ قبضہ ہو گا تو باقی سب کچھ آسانی سے مل جاۓ گا فرق صرف اتنا ہے کہ اس قبضے کی جنگ میں جو لڑ رہا ہے وہ بھی عام آدمی ہے اور جو مر رہا ہے وہ بھی عام آدمی ہے، جو بے گھر ہو رہا ہے وہ بھی عام آدمی ہے، ہم لوگ کتنے ہوشیار ہیں کہ اپنے گھر کا قبضہ ایک ایسے شخص کو دے رہے ہیں جس سے آئندہ پانچ سال تک ہمارا کوئی واسطہ یا تعلق نہیں رہے گا. اور اس شخص کو قبضہ دلانے کے لے ہم اپنے ہی بھی کا خون بہا کر خوشی اور فخر محسوس کر رہے ہیں، آخر یہ ملک پاکستان ہمارا گھر ہی تو ہے ..... ہماری وہ زمین جو زندہ یا مردہ ہر حال میں ہم کو جگہہ دیتی ہے. شاید ہمارے شعور کی آنکھ جب کھلے گی جب دنیا سے آنکھ بند ہونے کا وقت آ جاۓ گا.

بقول غالب !
"بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 
آدمی کو بھی میسر نہیں یہاں انساں ہونا"

بات بلکل سہی ہے ابھے تو ہم کو آدمی بننے میں کافی وقت لگے گا انسان تو بہت دور کی بات ہے کیونکہ آدمی سے اوپر 
اشرفلمخلوقات اور آدمی سے نیچے جانور ہوتا ہے. 

              







تبصرے